Friday, 5 February 2016

تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانا بنا

یہ اچھی پردہ داری ہے، یہ اچھی راز داری ہے

جو آئے تمہاری بزم میں، دیوانہ ہو جائے

تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانا بنا

اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا

یوسف مصر تمنا تیرے جلوؤں کی مثال

میری بے داریوں کو خوابِ ذلیخاں نہ بنا

تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت

ہم جہاں میں تیری تصویر لئے پھرتے ہیں

ذوق ِ برباد یہ دل کو بھی تو نہ کر برباد

دل کی اجڑی ہوئی بگڑی ہوئی دنیا نہ بنا

عشق میں دیدہ و دل شیشہ و پیمانہ بنا

جھوم کر بیٹھ گئے جہاں ہم، وہیں مئے خانہ بنا

تو ملا بھی ہے تو جدا بھی ہے! تیرا کیا کہنا

تو صنم بھی ہے تو خدا بھی ہے! تیرا کیا کہنا

یہ تمنا ہے کہ آزاد ِ تمنا ہی رہوں

دلِ مایوس کو مانوسِ تمنا نہ بنا

جو بہار آئے میرے گلشن جاں سے آئی

خاک کے ڈھیر سے یہ بات کہاں سے آئی

نِگر ناز سے پوچھیں گے کسی روز یہ زہیں

تو نے کیا کیا نہ بنایا! کوئی کیا کیا نہ بنا

تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانا بنا

اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا